اُچیاں نے شاناں سرکار دیاں
رب سوہنے نے اے کائنات بنائی اے
میرے تے وہ کیتا کرم دا سایہ اے
اللہ دی رحمت دا بدل وریا اے
لگیاں نے موجاں سنسار دیاں
— Unknown
اُچیاں نے شاناں سرکار دیاں
رب سوہنے نے اے کائنات بنائی اے
میرے تے وہ کیتا کرم دا سایہ اے
اللہ دی رحمت دا بدل وریا اے
لگیاں نے موجاں سنسار دیاں
— Unknown
وفورِ عشق سے سینوں میں اضطراب رہے
زمانہ سارا پھرا دربدر مگر وہ لوگ
ہمارے دل کو میسر رہی کلیدِ درود
یہی جزاۓ سخن ہے یہی ہے حرفِ دعا
یہی دعا ہے کہ سینہ رہے معطر یوں
وہ اسم پاک پڑھوں اور کیسے ممکن رہے
— Sajjad Baloch\
آپ کی نسبت اے نانائے حُسین
دور کر فُرقت اے نانائے حسین
مر کے بھی نکلے نہ میرے قلب سے
گھر چھٹے یا سرکٹے پر گُم نہ ہو
ہوں گناہوں کا مریضِ دائمی
واسِطہ غوث و رضا کا دور ہو
غم تمھارا چَین لینے ہی نہ دے
اب مدینے میں بُلا کر دور کر
سبز گنبد کی بہاریں دیکھ لوں
موت سر پر آگئی کر دو عطا
اپنے جلووں سے عطا فرمائیے
دو بقیعِ پاک میں دوگز زمیں
اَز طُفیلِ غوثِ اعظم دور ہو
نارِ دوزخ سے بچا کر یانبی
حضرتِ شَبِّیر و شَبَّر کے طُفیل
آل سے اصحاب سے قائم رہے
پیر و مرشِد پر مرے ماں باپ پر
ہر طرف نیکی کی دعوت عام ہو
سنّتوں کی ہر طرف آئے بہار
خوب مَدنی قافِلوں کی دھوم ہو
مَدنی اِنعامات کی ہو ریل پیل
نیکیوں میں دل لگے ہر دم بنا
میں گناھوں سے سدا بچتا رہوں
جھوٹ سے بغض و حسد سے ہم بچیں
بدگمانی، بدنگاہی سے بچیں
دیجئے قفلِ مدینہ دیجئے
دولتِ اِخلاص ہم کو دیجئے
کیجئے حج کا شَرَف مجھ کو عطا
پھر طوافِ خانۂ کعبہ کروں
میں مدینے کا مسافِر اب بنوں
چل مدینہ کی بِشارت دیجئے
اپنا غم اور چشمِ نم دے دیجئے
عشق میں آہیں بھروں ، روتا رہوں
یارسولَ اللہِ اُنْظُر حالَنا
یاحبیبَ اللہِ اِسْمَعْ قالَنا
اِنَّنِی فِیْ بَحْرِ ھَمٍّ مُّغرَقٌ
خُذْ یَدِیْ سَھِّلْ لَّنَا اَشْکَالَنَا
اِستِقامت دیجئے اسلام پر
دل سے دنیا کی ہَوَس سب دورہو
نَزْع، قَبْر و حشْر، مِیزاں ہر جگہ
عیب کُھل جائیں نہ مَحشَر میں کہیں
از طفیلِ چار یارِ باصفا
صَدقہ شہزادوں کا آقا کیجئے
سب صَحابہ کا وسیلہ سیِّدا
غوث و خواجہ اور رضا کا واسِطہ
مُرشِدی قطبِ مدینہ کے طُفیل
ہر ولی کاواسِطہ عطّارؔ پر
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
کیوں اپنی گلی میں وہ روادارِ صدا ہو
گر وقتِ اَجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
ہمسایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیوار
موقوف نہیں صبحِ قیامت ہی پہ یہ عرض
دے اس کو دَمِ نزع اگر حور بھی ساغر
فردوس کے باغوں سے ادھر مل نہیں سکتا
دیکھا اُنہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آتا ہے فقیروں پہ اُنہیں پیار کچھ ایسا
وِیراں ہوں جب آباد مکاں صبح قیامت
ڈھونڈھا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی
جب دینے کو بھیک آئے سرِ ُکوئے گدایاں
جھک کر اُنہیں ملنا ہے ہر اِک خاک نشیں سے
تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت
دے ڈالیے اپنے لبِ جاں بخش کا صدقہ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
خیال میں بھی جب رسولِ ذی حَشَم کا نام پڑھ
جو مدحتِ نیاز ہے، جو عشق کی نماز ہے
یہ ربطِ لایزال ہے، یہ جان ہے، یہ آل ہے
ثنا ہی رخت و زاد ہے، نہاد ہے، مراد ہے
کریم سُن رہے ہیں تیری نعت کو، سلام کو
وہ نام ہی حیات ہے، وسیلۂ نجات ہے
— Maqsood Ali Shah\
مجھ پہ مولا کا کرم ہے ان کی نعتیں پڑھتا ہوں
دھوم ان کی نعت خوانی کی مچاتی جائیں گے
کتنا بڑا ہے مجھ پہ یہ احسان مصطفیٰ ﷺ
مجھ پہ مولا کا کرم ہے ان کی نعتیں پڑھتا ہوں
نعت خوانی کا مزہ نس نس میں ایسا چھا گیا
کوئی گفتو ہو لب پر تیرا نام آگیا ہے
جتنا دیا سرکارﷺ نے مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں
تیرا وصف بیاںہو کس سے تیری کون کرے گا بڑائی
غم نہیں چھوڑ دے یہ سارا زمانہ مجھ کو
سینے میں بھرا ہے تیری نعتوں کا خزانہ
آواز عبید تیری بہ فیضان نعت ہی
— Ubaid Raza\
خاک سورج سے اندھیروں ازالہ ہوگا
حشر میں ان کا ہر اک چاہنے والا ہوگا
عشقِ سرکار کی اک شمع جلالو دل میں
جب بھی مانگو تو وسیلے سے انہی کے مانگو
حشر میں ہوگا وہ سرکار کے جھنڈے کے تلے
حشر میں اس کو بھی سینے سے لگائیں گے حضور
صلہِ نعتِ نبی پاؤں گا جس دن خالدؔ
— Unknown
خدا نے جب سجائی بزم کن صدقہ محمدؐ کا
زمین و آسماں کیونکر نہ ہوں ان کے تصرف میں
میںکرتا ہوں تصور میں طوافِ گنبدِ خضرا
اُجالے چھا گۓ کفر و جہالت کے اندھیروں پر
نظر کس طرح آتا دھوپ کے میلے میں لوگوں کو
رسولوں کو بھی اُنؐ کا امتی ہونے کی حسرت تھی
— Sahar Farani\
دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
آستانہ پہ تِرے سر ہو اَجل آئی ہو
خاکِ پامال غریبوں کو نہ کیوں زندہ کرے
اُس کی قسمت پہ فدا تخت شہی کی راحت
تاج والوں کی یہ خواہش ہے کہ اُن کے دَر پر
اِک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
آج جو عیب کسی پر نہیں کھلنے دیتے
کیوں کریں بزمِ شبستانِ جناں کی خواہش
خِلْعَتِ مغفرت اس کے لئے رحمت لائے
یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے
ذِکرِ خدام نہیں مجھ کو بتا دیں دشمن
جب اُٹھے دست ِاَجل سے میری ہستی کا حجاب
دیکھیں جاں بخشیٔ لب کو تو کہیں خضر و مسیح
کبھی ایسا نہ ہوا اُن کے کرم کے صدقے
بند جب خوابِ اَجل سے ہوں حسن کی آنکھیں
— Hassan Raza Khan Barelvi\
فراق مدینہ میں دل رو رہا ہے
میری آنکھ سے چھینا طیبہ کا منظر
دکھایا ہے دن یہ مقدر نے مجھ کو
میرے دل کے ارماں رہے دل ہی دل میں
سکوں تھا مجھے کوچہ مصطفیٰﷺ میں
نہ دنیا کی فکریں نہ غم تھا وہاں پر
میں لفظوں میں کیسے بتا دوں کسی کو
پہاڑوں کی دلکش قطاروں کے جلوے
انہیں چومنا ہاتھ لہرا کر پیہم
عقیدت سے خاک مدینہ اٹھا کر
کبھی چلتے چلتے اٹھا کر تنکے
کبھی دید سرور کی حسرت میں منبر
حسین وہ پیاری وہ جنت کی کیاری
کبھی دیکھ کر سبز گنبد کا منظر
کبھی حاضری کے لیے گھر سے چل کر
کبھی روتے روتے کبھی دل ہی دل میں
مدینے سے میں دور آکر پڑا ہوں
بچھڑ کر عبید رضا تیرے در سے
بلا لو عبید رضا کو بلا لو
— Ubaid Raza\