سلطانِ کربلا کو ہمارا سلام ہو
عباسِ نامدار ہیں زخموں سے چور چور
اکبر سے نوجوان بھی رن میں ہوۓ شہید
بھائی، بھتیجے، بھانجے سب ہو گئے نثار
اصغر کی ننھی جان پہ لاکھوں درود ہوں
ہو کر شہید قوم کی کشتی ترا گئے
ناصؔرولائے شام میں کہتا ہے باربار
— Unknown
سلطانِ کربلا کو ہمارا سلام ہو
عباسِ نامدار ہیں زخموں سے چور چور
اکبر سے نوجوان بھی رن میں ہوۓ شہید
بھائی، بھتیجے، بھانجے سب ہو گئے نثار
اصغر کی ننھی جان پہ لاکھوں درود ہوں
ہو کر شہید قوم کی کشتی ترا گئے
ناصؔرولائے شام میں کہتا ہے باربار
— Unknown
زہرہ کے لاڈلوں کا ہے بڑا سخی گھرانہ
بگڑی ہوئی جہاں کی قسمت کو یہ سنواریں
ایسا جہان میں ہےبس ایک آستانہ
سردار قدسیوں کے بن کر فقیر آئیں
آتا ہے قاتلوں کو شربت انہیں پلانہ
جنت سے سِل کے جوڑے ان لاڈلوں کے آئیں
اونچا حسب نسب ہے اور ٹھاٹھ ہے شہانہ
— Unknown
لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا
یہ بِل یقیں حسینؑ ہے نبی کا نور عین ہے
یہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مست ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حسین ہے حسین ہے ، نبی کا نُورِ عین ہے
حسین ہے حسین ہے ، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ بالیقیں حسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حسین ہے حسین ہے ، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ بالیقیں حسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ جسکی ایک ضرب سے، کمالِ فنِّ حرب سے
یہ بالیقین حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ بالیقین حسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
— Hafeez Jalandhari\
کلمے دے وارثاں نوں ، میرا سلام ہووے
بھاویں نہ لبھیا پانی ، شکوہ زرا نہیں کیتا
آل نبی دی عظمت ، بچیاں نوں جو سکھاندی
دسیا جنھاں نیں سانوں ، زھرا دے گھر دا رتبہ
کلمے دے وارثاں نوں ، میرا سلام ہووے
— Unknown
چھوڑ کر تیرا دامنِ رحمت
کھو دی اپنی قدر و قیمت
حد سے گزری ہے نادانی
گھیرے ہوئے ہے نفرت و ذلت
بن گے سیم و زر کے بندے
چھِن گئی ہم سئ فقر کی دولت
دکیھیں ہماری آنکھ مچولی
بھول گئے ہم درسِ اخوت
علم و عمل کا رشتہ ٹوٹا
فرقہ فرقہ ہوگئی امت
ساری دنیا میں ٹھکرائے ہوئے
آقاؐ کھول دو ہم پہ بابِ رحمت
— Unknown
اَب آدمی کچھ اور ہَماری نَظر میں ہے
اَپنا ہی جَلوہ ہے جو ہَماری نَظر میں ہے
وہ گَنجِ حُسن ہے دِلِ وِیراں میں جَلوہ گَر
بَس اِک فَروغِ نَقشِ کَفِ پا کے فیض سے
اللہ خیر میرے دِلِ بیقرار کی
خود بینیوں کی آنکھ مِلی چشمِ شوق کو
بَننے سے پہلے ساغرِ مَے ٹُوٹ جاتے ہیں
غُربت میں بھی خیالِ وَطن ساتھ ساتھ ہے
اے نُوح ! اپنی کشتئ عالم سے ہوشیار
اِک مِیہماں سے دونوں گھر آباد ہیں مِرے
حیران ہُوں کہ سَجدہ کَروں تو کِدھر کَروں
ہَنستے ہیں میرے گِریۂ بے اِختیار پر
بیدم یہ جُستجو بھی عَجب ہے عَجب تَلاش
— Bedam Shah Warsi\
یہ زمیں یہ فلک
ہر سحر پھُوٹتی ہے نئے رنگ سے
ہر ستارے میں آباد ہے اِک جہاں
نُور ہی نُور بِکھرا ہے کالک نہیں
سو نپ کر منصبِ آدمیّت مُجھے
— Muzaffar Warsi\
زمیں کے لوگ ہوں یا اہلِ عالمِ بالا
تِرے قلم کی گواہی ، مرقّعِ عَالَم
دِیے حسین خدو خال تُو نے مٹّی کو
تھمائی مہر کو لَیل و نہار کی ڈوری
زمینِ تِیرہ کے مُنہ سے لگا دِیا تُو نے
پڑھے قصیدہ وحدت ، ہجومِ کون و مکاں
مُجھے ہی تُونے دیا اِختیارِ لغزش بھی
اُتار کر مِرے سِینے میں آگہی کے چانّد
ہر ایک سانّس کو میری ، بنا چراغِ حرم
— Muzaffar Warsi\
شب کو مہتاب نِکالا ہے
دُنیا ئے رنگین کی دُلہن
مہکار جُدا آواز جُدا
قبضہ ہے جس کی چُٹکی کا
— Muzaffar Warsi\
بے حِسی ، راہ نُما ٹھہری ہے
چھِن گئیں مجھ سے مِری روشنیاں
اپنے ہی خُوں میں نہا کر نِکلوں
کِس کی زنجیر ہلاؤں جا کر
بھُول بیٹھا ہُوں خُدا کو شاید
کوئی منزل ہے نہ رستہ میرا
پیاس بڑھتی ہی چلی جاتی ہے
عکسِ اَسلاف سے شِکوہ ہے مجھے
مسجدِ رُوح میں ہوتی ہے اذاں
رحم، اَفلاس پہ میرے ، یارب
— Muzaffar Warsi\