مرے لئے مرے اللہ دو حرم ہیں بہت
تو سامنے سہی تجھ تک رسائی سہل نہیں
خطا معاف میں دو وحدتوں کا قائل ہوں
کدھر کدھر تری آواز کی طرف جاؤں
رہ سلوک میں یہ کونسا مقام آیا
نیاز مند مظفر کو بھی بنا اُن کا
— Muzaffar Warsi\
مرے لئے مرے اللہ دو حرم ہیں بہت
تو سامنے سہی تجھ تک رسائی سہل نہیں
خطا معاف میں دو وحدتوں کا قائل ہوں
کدھر کدھر تری آواز کی طرف جاؤں
رہ سلوک میں یہ کونسا مقام آیا
نیاز مند مظفر کو بھی بنا اُن کا
— Muzaffar Warsi\
نہیں ہے کوئی بھی اللہ کے سوا موجود
نہ اونگھتا ہے نہ کچھ نیند اس کو آتی ہے
وہ کون ہے جو کرے بارگاہ میں اُسکی
ہر ایک لمحہ جو پیش آرہا ہے لوگوں کو
احاطہ علم کا اس کے کسی کے بس کا نہیں
اور اُسی کرسی کہ ارض و سما پہ حاوی ہے
— Muzaffar Warsi\
نگاہ دنیا لگے گی دنیا حرم لگے گی
رکھیں گے اپنی جبیں جو سجدے میں اس کے آگے
مٹاؤ گے بھوک کس طرح زندگی کی آخر
کریں گے ہر حال میں جو شکر اس کا اس کے بندے
قصیدہ حمدیہ میں اس شان سے لکھوں گا
جو اُس کی خوشنودیوں کو پیش نظر نہ رکھّا
کریں گے انکار ہم اگر یوم آخرت کا
عمل کے سکّے اگر وہاں چل گئے مظفر
— Muzaffar Warsi\
حیات سے بڑا ہے کائنات سے بڑا ہے وہ
زبان ساتھ دے مگر شعور کی حدود تک
خدا کا اور بندہء خدا کا کیا مقابلہ
قریب سے قریب تر بعید سے بعید تر
ہم اسکی جس قدر ثنا کریں ہے کم بہت ہی کم
کسی کی فکر و فہم کی گرفت میں نہ آسکے
— Muzaffar Warsi\
میری محبت میرا حوالہ رب ہے رب
مایوسوں محروموں گرتے پڑتوں کا
انجاموں سے بھی آگے اس کا آغاز
احساس و جذبات کا رابطہ رکھ اس سے
سبحان ربی العظیم ہے اس کی ذات
میری روح میں دل میں ذہن میں آنکھوں میں
جتنی تعریفیں کی جائیں کم ہیں کم
پہنوں اوڑھوں اسے مظفر صرف اُسے
— Muzaffar Warsi\
پسِ ہر آئِنہ صُورت نظر آئے اُس کیہر سَحر ہوتی ہے اُس کی ہی اجازت سے طلوع
لمحے لمحے میں صداقت نظر آئے اُس کیذہنِ انساں کی رسائی سے بہت بالا ہے
نارسائی میں بھی حکمت نظر آئے اُس کیایک ہو کر بھی وہ موجود ہر اِک رنگ میں ہے
یعنی کثرت میں بھی وحدت نظر آئے اُس کیغور کیجے تو نِکل آتے ہیں مطلب کتنے
ذرّہ ذرّ ہ مجھے آیت نظر آئے اُس کیہر بُرائی پہ ملا مت کرے انساں کی ضمیر
دلِ مجرم بھی عدالت نظر آئے اُس کیہم خرید ارِ زمیں اور وُہ زمیں کا خالق
حاکموں پر بھی حکومت نظر آئے اُس کیمَیں ہُوں زندہ تو مظفّؔر یہ کرم ہے اُس کا
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
دامن بھی کم پڑ جاتے ہیں ۔۔۔ طلب سے بڑھ کر اہلِ طلب کو دیتا ہےکیسے کیسے رنگ بھرے ہیں ذرّے ذرّے میں اُس کی خلّاقی کے
کیا ہی بات ہے اُس رزاق کی کیا ہی کہنے ہیں اُس کی رزّاقی کےہم تو پھر اُس کے بندے ہیں ۔۔۔۔ مالک تو مار و عقرب کو دیتا ہے
وُہ سب کی سُنتا ہے سب کو دیتا ہےدھڑکن دھڑکن بندگیوں کے لہجے میں اعلانِ وفا کرتے رہنا
شُکر گزاری اس کو اچھی لگتی ہے شُکر اُس کا ادا کرتے رہناہیرے موتی خاک نشیں کو ۔۔ ۔ بادل دریا تشنہ لب کو دیتا ہے
وہ سب کو سُنتا ہے سب کو دیتا ہےجانیں نہ جانیں مانیں نہ مانیں جتنے بھی انسان ہیں نائب اُس کے ہیں
ساری دُنیا ئیں اُس کی ہیں سارے مشرق سارے مغرب اُس کے ہیںدن کو اُجلی اُجلی قبائیں ۔۔۔ کالی کالی چادر شب کر دیتا ہے
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
مِری ذات اکیلی کُچھ بھی نہیںمُجھے اپنے عشق میں صنم کرنا
اے میرے کریم ؐ ، کرم کرناگھر آپ کا شہر مدینے میں
رہتے ہیں مِرے آئینے میںچلتے ہیں عدم کی دھرتی پر
سُنتا ہُوں مَیں آہٹ سینے میںجب آہٹ میں کھو جاتا ہُوں
خاکِ کفِ پا ہو جاتا ہُوںاس خاک کو شمعِ حرم کرنا
اے میرے کریم ؐ ، کرم کرناصد شُکر کہ پایا آپ کا غم
مَیں دھوپ ہُوں سایا آپ کا غممجھے ساری خوشیاں آپ نے دیں
مِرا کُل سر مایا آپ کا غمجب آپ کا غم تڑپاتا ہے
رونے میں بڑا لُطف آتا ہےمِری آنکھیں اور بھی نم کرنا
اے میرے کریم ؐ کرم کرناجب آدھی رات گُزرتی ہے
سینے میں صُبح اُترتی ہےمَیں سارا بِکھر سا جاتا ہُوں
رحمت مجھے یک جا کرتی ہےرحمت کو رکھنا ساتھ مرے
اُڑتے ہی رہیں صفحات مرےترتیب مِری ہر دَم کرنا
اے میرے کریمؐ ، کرم کرناجو قدریں، حُسن حیا ت کا ہیں
عکس آپ کی تعلیمات کا ہیںجتنے بھی علوم ہیں دُنیا میں
سب ترجمہ آپ کی ذات کا ہیںپڑھا آپ کو جب قرآن پڑھا
اِسلام پڑھا ایمان پڑھامِرے عِلم کو مستحکم کرنا
اے میرے کریم ؐ ، کرم کرنامحشر کا جب ہنگامہ ہو
نعتوں کا سر پہ عمامہ ہوںدیکھے جو خُدا اعمال مرے
ہر اِک سے جُدا ، مرا نامہ ہوتِرے ذکر کی مُہریں ہوں لب پر
مِری جتنی سانّسیں ہوں سب پربس اپنا نام رقم کرنا
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
شاہکار حیات آپ کی ذاتخالق کائنات ذات خدا
مقصد کائنات آپ کی ذاتشرح تہذیب ایک ایک عمل
روحِ اخلاقیات آپ کی ذاتشرق و غرب آپ کے نشانِ قدم
جہت شش جہات آپ کی ذاتجزوِ ایماں مطالعہ جس کا
دیں کی وہ کلیات آپ کی ذاتحیرت انگیز آپ کا معمول
مظہر معجزات آپ کی ذاتہر صدی آپ کے جلو میں چلے
ہر زمانے کے ساتھ آپ کی ذاتجس کی تائید تا ابد ہوگی
وہ ثبوت ثبات آپ کی ذاتمیرا منشور میرا پیمانہ
آپ کی بات آپ کی ذاتکیا مظفر ہو عاقبت کی فکر
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
کبریا سے مانگنا ہے مصطفؐےٰ سے مانگنادینے والا ہے خدا اور بانٹنے والا رسولؐ
ایک جیسا ہے کسی کی بھی رضا سے مانگنایہ بھی رحمت وہ بھی رحمت، نام دونوں کا کریم
کیا ہے مشکل ، بندہء مشکل کشا سے مانگنااپنا ایماں ہے کہ زیرِ خاک ہیں زندہ حضورؐ
مانگنی ہے تو بقا اپنی، فنا سے مانگنادھوپ میں بدلی رہا کرتی تھی سر پر آپؐ کے
کیا غلط ہے ٹھنڈکیں ٹھنڈی ہوا سے مانگنامسلکِ ایمان و دیں ہے مطمعِ اسلام ہے
نقشہء توحید اُن کے نقشِ پا سے مانگناحشر کے دن بھی میّسر ہو شفاعت آپ کی
اس لیے لازم ہے محبوبِ خدا سے مانگناآخرت تک کے لیے سیراب ہونا ہے اگر
ایک چھینٹا رحمتِ حق کی گھٹا سے مانگناشرط یہ ہے آپ کی آواز کے پیچھے چلو
منزلیں پھر حسبِ منشا ارتقا سے مانگنابے وسیلہ تو مظفر زندگی ممکن نہیں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم