Dil Ke Hira Mein Apne Khuda Se (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

دل کے حرا میں اپنے خدا سے تیرے سوا کچھ بھی تو نہ مانگا
تو مرا اول تو مرا آخر تو مرا ملجا تو مراماویٰ

بعد خدا اِک تو ہی سہارا گِھر گیا میں تنہا بے چارا
چار طرف تاریخ کا جنگل تاک میں اپنے گھات میں اعدا

کتنے صحیفے میں نے کھنگا لے نصف اندھیرے نصف اُجالے
تو ہی حقیقت تو ہی صداقت باقی سب کچھ صرف ہیولیٰ

یوں تو ہزار سیانے آئے روح کا دشت بسانے آئے
تیری گھٹا صحراؤں پہ امڈی ابر اُن کا دریاؤں پہ برسا

بت خانے حیران کھڑے ہیں بت تیرے قدموں میں پڑے ہیں
تیرے جمال کی زد میں آکر کیسا کیسا پتھر ٹوٹا

تو نے دیا مفہوم نمو کو ‘تو نے حیات کو معنی بخشے
تیرا وجود اثبات خدا کا تو جو نہ ہوتا کچھ بھی نہ ہوتا

Rah Gum Karda Musafir Ka Nigehban Tu Hai (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

راه گم کرده مسافر کا نگہباں تو ہے
افق باں پر مثال مِہ تاباں تو ہے

تو جو میرا ہے تو میں بے سروساماں ہی بھلا
لِلّٰهِ الحَمد ، کہ میرا سروساماں تو ہے

مجھ کو کیا علم کہ کس طرح بدلتی ہیں رُتیں
جب مرے دشت خزاں پر بھی گُل افشاں تو ہے

اُس خدا سے مجھے کیسے ہو مجال انکار
جس کے شہ پارہ تخلیق کا عنواں تو ہے

اپنے ہر عزم کی تکمیل پر ایماں ہے مرا
پسِ ہر عزم اگر سلسلہ جنباں تو ہے

تیرے دم سے ہمیں عرفان خداوند ملا
نوع انساں پر خداوند کا احساں تو ہے

یہ بتانے کو کہ با وزن ہے انسان کی ذات
دستِ یزداں نے جو بخشی ہے ، وہ میزاں توہے

خاک میں آج بھی ہے گونج ، ترے قدموں کی
اور افلاک کی وسعت میں خراماں تو ہے

تو نے فاقہ بھی کیا ، اپنا گریباں بھی سِیا
اور پھر ذات الہی کا بھی مہماں تو ہے

تیرا کردار ہے احکام خدا کی تائید
چلتا پھرتا ، نظر آتا ہوا قرآں تو ہے

رنگ کی قید نہ قدغن کوئی نسلوں کی یہاں
جس کے در سب پر کھلے ہیں وہ دبستاں تو ہے

میرے نقاد کو شاید ابھی معلوم نہیں
میرا ایماں ہے مکمل ، مرا ایماں تو ہے

Rooh o Badan Mein, Qol o Amal Mein, Kitne Jameel Hain Aap (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

روح و بدن میں، قول و عمل میں کتنے جمیل ہیں آپ
انساں ہے مسجود ملائک ، اس کی دلیل ہیں آپ

آپ کی اک اک بات کلام الٰہی کی تفسیر
قرآں تو اجمال بلیغ ہے ، اور تفصیل ہیں آپ

آپ نوید عیسٰیؑ بھی ہیں ، مژده موسٰیؑ بھی
آپ ایثار و وفا کے وارث ، سبطِ خلیل ہیں آپ

آپ کے ذکر سے کھلتے جائیں ، راز جہانوں کے
قدم قدم پر وجود و عدم میں سب کے کفیل ہیں آپ

مکہ و طائف کی گلیوں میں سنگِ ستم کے ہدف
بدر و حنین کے میدانوں میں بطلِ جلیل ہیں آپ

روزِ ازل ، انسان کو خدا نے اک منشور دیا
اور اِسی منشورِ ہدایت کی تکمیل ہیں آپ

ؔکتنے یقین سے بڑھتا جائے آپ کی سمت ندیم
اُس کو کیا اندیشہ شب ، جس کی قندیل ہیں آپ

Qatra Maange Jo Koi (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

قطرہ مانگے جو کوئی ، تو اُسے دریا دے دے
مجھے کچھ اور نہ دے اپنی تمّنا دے دے

میں تو تجھ سے فقط اک نقش کف پا چاہوں
تو جو چاہے تو ،مجھے جنت ماویٰ دے دے

وہ جو آسودگی چاہیں ، انہیں آسودہ کر
بے قراری کی لطافت مجھے تنہا دے دے

میں اس اعزاز کے لائق تو نہیں ہوں لیکن
مجھ کو ہمسائیگئ گنبد خضرا دے دے

یوں تو جب چاہوں میں تیرا رخِ زیبا دیکھوں
عرض یہ ہے کہ مجھے اِذن تماشا دے دے

وہ بھی دیکھیں پَسِ ہر حرف تیری جلوہ گری
سب کو تو میری طرح دیده بینا دے دے

غم تو اس دور کی تقدیر میں لکھے ہیں مگر
مجھ کو ہر غم سے نمٹ لینے کا یارا دے دے

تب سمیٹوں میں ترے ابر کرم کے موتی
میرے دامن کو جو تو وسعت صحرا دے دے

تیری رحمت کا یہ اعجاز نہیں تو کیا ہے
قدم اُٹھیں تو زمانہ مجھے رستا دے دے

ؔجب بھی تھک جائے محبت کی مسافت میں ندیم
تب ترا حسن بڑھے اور سنبھالا دے دے

Ilaj e Gardish e Lail o Nahar Tu Ne Kiya (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

علاج گردشِ لیل و نہار تُو نے کیا
غبارِ راہ کو ُچھو کر بہار تُو نے کیا

ہر آدمی کو تشخص ملا ترے دم سے
جو بے شمار تھے ، ان کو شمار تو نے کیا

اٹھا کے قعر مذلت سے ابن آدم کو
وقار تو نے دیا ، باوقار تو نے کیا

کوئی نہ جن کی سنے اُن کی بات تو نے سنی
ملا نہ پیار جنہیں ، اُن سے پیار تو نے کیا

اگر غریب کو بخشے حقوق لامحدود
تو قصرِ شاہ کو بھی بے حصار تو نے کیا

جنہیں گماں تھے بہت ، اپنی سرفرازی کے
بہ یک نگاہ انہیں ، خاکسار تو نے کیا

دل و دماغ کے سب چاند ہو چکے تھے غروب
یہ وہ افق ہے ، جسے تاب دار تو نے کیا

جمال قول و عمل ہو کہ حسن صدق و صفا
خدا نے جو بھی دیا ، پائیدار تو نے کیا

جب اُن کے نطق کو پہنچی ، ترے یقین کی آنچ
جو بے زباں تھے ، انہیں شعلہ بار تو نے کیا

یہ لطف غالبؔ و اقبالؔ تک نہیں محدود
ندیمؔ کو بھی صداقت نگار تو نے کیا

Mein Ne Mana Ke Woh Mera Hai (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

میں نے مانا کہ وہ میرا ہے تو سب کا بھی وہی
مجھ کو یہ ناز وہ سب کا ہے تو میرا بھی وہی

سر اُٹھاتا ہوں تو افلاک کو مس کرتا ہے
کہ جو محبوبِ خدا ہے میرا اپنا بھی وہی

مثل اُس کا کوئی آیا ہے ، نہ اب آئے گا
میرا ماضی بھی وہی ہے ، مرا فردا بھی وہی

وہ مری عقل میں ہے، وہ میرے وجدان میں ہے
میری دنیا بھی وہی ہے ، مری عقبٰی بھی وہی

اُس کے احکام بھی کلیوں سی چٹک رکھتے ہیں
میرا آقا بھی وہی ہے ، مرا پیارا بھی وہی

وہ جو برسا ، مری تشکیک کے صحراؤں پر
میرے وہموں کی شب تار میں چمکا بھی وہی

کتنی صدیوں سے ہے وہ گنبد خضرا میں مکیں
اور ہر دور میں ” ہر سمت ، ہو یدا بھی وہی

وہ بشر ہے کہ یہی اُس کا ہے ارشاد ، مگر
اس جہانِ بشریت میں ہے یکتا بھی وہی

گرچہ پرکار مشیت کا وہی دائرہ ہے
لیکن اس دائرے کا مرکزی نقطہ بھی وہی

جس کے انصاف نے پتھر کو بھی بخشی ہے زباں
بے نواؤں کی نواؤں کو سنے گا بھی وہی

Alam Ki Ibtida Bhi Tu Inteha Bhi Tu (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

عالم کی ابتداء بھی ہے تُو انتہا بھی تُو
سب کچھ ہے تُو ، مگر ہے کچھ اس کے سوا بھی تُو

تُو اک بشر بھی اور خدا کا حبیب بھی
نورِ خدا بھی تُو ہے خدا کا پتا بھی تُو ہے

کندہ درِ ازل پہ ترا اسمِ پاک تھا
قصرِ ابد میں گونجنے والی صدا بھی تُو

فردا و حال و ماضئ انساں یہی تو ہے
تُو ہی تُو ہوگا، تُو ہی تو ہے اور تھا بھی تُو

تُو صرف ایک ذات ہے یا پوری کائنات
دل میں بھی تُو ہی تُو ہے ، مگر جابجا بھی تُو

یوں تو مرے ضمیر کا مسند نشیں بھی ہے
لیکن ہے شش جہات میں جلوہ نما بھی تُو

تو میرا آسماں بھی ، مری کہکشاں بھی ہے
میری قبا بھی تُو مرا چاکِ قبا بھی تُو

تو میر کارواں بھی ہے ، سمت سفر بھی ہے
میرا امام بھی ، مرا قبلہ نما بھی تُو

صرف ایک تیرا نام ہے وردِ زباںمدام
میری دعا بھی تُو میری مدعا بھی تُو

جو مَیل دل پہ تھے تیری رحمت سے ڈھل گۓ
بیمارِ گمراہی کو نویدِ شفابھی تُو

بدلے ہیں میرے صبح و مسا تو نے جس طرح
بدلے گا ایک دن میرے ارض و سماء بھی تُو

بے آجز تیرے در سے نہ پلٹے گی میری نعت
ایک اور نعت کا مجھے دے گا صلہ بھی تو

Mujh Ko Toh Apni Jan Se Bhu Pyara Hai Unka Naam (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

مجھ کو تو اپنی جاں سے بھی پیارا ہے اُن کا نام
شب ہے اگر حیات ، ستارا ہے اُن کا نام

تنہائی کس طرح مجھے محصور کر سکے
جب میرے دل میں انجمن آرا ہے اُن کا نام

ہر شخص کے دکھوں کا مداوا ہے اُن کی ذات
سب پاشکستگاں کا سہارا ہے اُن کا نام

بے یاروں ، بے کسوں کا اثاثہ ہے اُن کی یاد
بے چارگان دہر کا چارا ہے اُن کا نام

لب وَا رَہیں تو اسمِ محمد ادا نہ ہو
اظہار مدعا کا اشارا ہے اُن کا نام

لفظِ محمدؐ اصل میں ہے نطق کا جمال
لحنِ خدا نے خود ہی سنوارا ہے ان کا نام

ؔقرآن پاک اُن پہ اتارا گیا ندیم
اور میں نے اپنے دل میں اُتارا ہے اُن کا نام

Har Ik Phool Ne Mujh Ko Jhalak Dikhai Teri | Best Naat Sharif in Urdu Ahmed Nadeem Qasmi

شاعر: Ahmed Nadeem Qasmi


ہر ایک پھول نے مجھ کو جھلک دکھائی تری
ہوا جدھر سے بھی آئی ، شمیم لائی تری

وہ شخص اپنے مقدر کا خود ہے صورت گر
کہ جس نے اپنے ارادوں میں لو لگائی تری

کبھی ہوا نہ مرا سامنا اندھیروں سے
جدھر بھی دیکھا ، اُدھر روشنی ہی پائی تری

مرے نقوش قدم پر چراغ کیوں نہ جلیں
کہ رہنما ہے مری ، شان رہنمائی تری

درونِ سینہ ، مدینہ اُٹھائے پھرتا ہوں
کہ ایک پل بھی گوارا نہیں جدائی تری

مجھے تو اپنے کرم کی یہیں بشارت دے
کہ روز حشر نہ دیتا پھروں دہائی تری

گواہی دیتا ہے یہ ارتقائے انسانی
کہ کام آئی جہاں بھر کو پیشوائی تری

مجھے قسم ہے تری سیرت منزہ کی
کہ تاج و تخت پر اک طنز تھی چٹائی تری

یہ سوچ سوچ کے حیران ہیں فرشتے بھی
کہاں کہاں شب اسریٰ ہوئی رسائی تری

ندیمؔ کے سے کروڑوں کا ذکر کیا ہے کہ جب
بڑے بڑوں کو بھی تسلیم ہے بڑائی تری

Meri Hayat Ka Gar Tujh Se Intesab Nahi ✦ Read Full Naat Sharif Online

شاعر: Ahmed Nadeem Qasmi


مری حیات کا گر تجھ سے انتساب نہیں
تو پھر حیات سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں

امڈ رہی ہیں اگر آندھیاں ، تو کیا غم ہے
کہ میرا خیمۃ ایمان بے طناب نہیں

ترا گدا ہوں ، اور اس انجمن میں بیٹھا ہوں
جس انجمن میں سلاطیں بھی باریاب نہیں

ترے کمال مساوات کی قسم ہے مجھے
کہ تیرے دیں سے بڑا کوئی انقلاب نہیں

صدی صدی کی تواریخ آدمیت میں
تری مثال نہیں ہے ، ترا جواب نہیں

ندیمؔ پر ترے احسان ہیں اس قدر جن کا
کوئی شمار نہیں ہے ، کوئی حساب نہیں