گویا برابری ہے یہ پروردگار کیبندوں کے ساتھ آپ ہے شامل درود میں
حد ہوگئی ہےآپؐ سے بے حد کے پیار کیپہنچے تھے کوہِ طور پہ خود حضرتِ کلیمؑ
سج دھج ہے عرشِ حق پہ تیرے انتظار کیہر تاجدار آپؐ کے در کا فقیر ہے
کونین میں ہے دھوم میرے تاجدار کیجب تک نہ ہو تمہارا کرم بات کیوں بنے
آۓ قرار دل کو، سنو بے قرار کیکھولے نبیؐ نے گیسوۓ والّلیل جب کبھی
رُت آگئی اِک آن میں ابرِ بہار کیمردہ ہے وہ کہ آپ سے الفت نہیں جسے
زندہ ہے، جان آپؐ پہ جس نے نثار کیہر روز تیرے گیسو و عارض کا ہے طواف
گردش نہیں زمانے میں لیل و نہار کیکس سے کہوں فسانہءِ غم آپ کے سوا
کس کو خبر ہے اور میرے حالِ زار کیٹکڑے کیا قمر کبھی پلٹایا آفتاب
اللہ رے یہ شان تیرے اختیار کیپوچھے گی عاصیوں کو شفاعت حضورؐ کی
زاہد کی ہے یہ بات نہ پرہیز گار کیاے جامِ حُبِ سرورِ کونین زندہ باد
میرے پائدارِ زیست میرے پائدار کیساجد جو میرے دل میں ہے عشقِ نبیؐ کا داغ
— Sajid Sabir Mehrvi\
Read more soulful naats, hamd and manqbat at Naat Lines.
