مانگنے کا شعور دیتے ہیں
مانگنے والا ہو اگر کوئی
گنبدِ خضریٰ کے حسیں جلوۓ
میرے آقا گنہگاروں کو
آستانِ رسول کے ذرے
جابروں کا نبی کے دیوانے
نیازیؔ کسی سے کیوں مانگیں
— Unknown
مانگنے کا شعور دیتے ہیں
مانگنے والا ہو اگر کوئی
گنبدِ خضریٰ کے حسیں جلوۓ
میرے آقا گنہگاروں کو
آستانِ رسول کے ذرے
جابروں کا نبی کے دیوانے
نیازیؔ کسی سے کیوں مانگیں
— Unknown
یَا نَبِی سَلَامٗ عَلَیکَ
ہو مبارک اہلِ عصیاں
یَا نَبِی سَلَامٗ عَلَیکَ
جشنِ مِیلاد النبی ﷺ ہے
یَا نَبِی سَلَامٗ عَلَیکَ
واسطہ غوث الورٰی کا
یَا نَبِی سَلَامٗ عَلَیکَ
مرضِ عصیاں کو مٹانا
یَا نَبِی سَلَامٗ عَلَیکَ
قبر میں ہو جبکہ آنا
یَا نَبِی سَلَامٗ عَلَیکَ
— Unknown
اخلاص اثر یہ بادہ فرما
اے سب پہ بہت رحیم! مجھ پر
مجھ کم دل و کم نگاہ کی قبر
ہر منزلِ خواہش و طلب میں
ہم ذہن کر میری ہر جبلّت
زنجیر کر اپنی بندگی میں
جو پاک تھا شور و شر سے' میری
کر نقش ریاضؔ دل میں وہ دور
— Riaz Majeed\
بخشا سکوں حضورﷺ کے فیضانِ عام نے
پیرایئہ حیات ہے سرمایئہ نجات
یوں دیکھتے ہیں روضۂ اطہر کو اہل دل
شایانِ بارگاہِ پیمبرﷺ نہ تھی فغان
تمہید التفات بنی لغزش قدم
محبوبﷺ کبریا کی حیاتِ جمیل سے
سرکارﷺ کی نگاہِ کرم ہے فقیر پر
— Hafiz Afzal Faqeer\
دو جہاں کا اجالا ہمارا نبی ﷺ
اُن سے رتبے میں اونچا نہیں ہے کوئی
دور زحمت ہوئی آگیا بن کے جب
عاصیوں پہ شفاعت کا محشر کے دن
اپنے ہر امتی کو کرے گا عطا
اپنی نوری توجہ سے دل کا ریاضؔ
— Unknown
تیرے گنبد کے پر اسرار نظارے دیکھوں
اے مرے ماہِ مبیں! خواب میں دیکھوں تجھ کو
کبھی دیکھ آؤں ثقیفہ میں ابوبکر کا فیض
کبھی فاروق میں دیکھوں تری خواہش کا وفور
کبھی دیکھوں تری بیٹی سے عقیدت تیری
کُھلتی جائیں ابوطالب کی وفائیں ساری
جن کے دامن میں تری آل کی تکریم نہیں
— Faiq Turabi\
بے نشاں کو ثنا نشان کیا
دل میں جو کچھ تھا' اے رحیم و کریم
رب معنی! ترا کرم تُو نے
کیا میرا سکوت' عرض انداز
دکھ کو دی سکھ شکل میرے لۓ
حمد اور نعت کے وسیلے سے
مجھ کو اپنے کرم کے بارے میں
رحم مادر سے بابِ جنت تک
پاس پایا ریاضؔ نے تجھ کو
— Riaz Majeed\
فرقت میں نبی کی رو رو کر جو گزارا کرتے ہیں
جو یادِ خدامیں جیتے ہیں جو نامِ نبی پر مرتے ہیں
دربارِ نبی کا کیا کہنا اس در کی ہے رسم وریت جدا
اس شانِ کریمی کے صدقے جب انکو پکارا مشکل میں
ہوں جنت عرشی کے جلوے زاہد کو مبارک بعد فنا
آسان نہیں ہے عشق نبی سوچا ہے سکندرؔ تم نے کبھی
— Unknown
کچھ اشک درودوں کے،کچھ ہار درودوں کے
آؤ بھی گناہگارو،پہنچو بھی مدینے میں
اے میرا خدا آۓ اک دن تو وہ دن ایسا
عصیاں کی سیاہی کو دھو ڈالے جو دم بھر میں
یہ آس نیازی ہے دولہا کی زیارت ہو
— Abdul Sattar Khan Niazi\
درد دل کر مجهے عطا یا رب
لاج رکه لے گناہگاروں کی
عیب میرے نہ کهول محشر میں
بے سبب بخش دے نہ پوچه عمل
زخم گہرا سا تیغ الفت کا
یوں گموں میں کہ تجه سے مل جاوں
بهول کر بهی نہ آئے یاد اپنی
تو حسن کو اٹها حسن کر کے
— Hassan Raza Khan Barelvi\