پتھر ہٹا کے لاش سے زینبؑ نے دی صدا
ہاۓ ہاۓ میرے غریب کا کیا حال کردیا
پہچاننا تمہارے لیے بھی کٹھن ہوا
کیا لے گۓ ہیں لوٹ کے سب کچھ اشقیاء
دیکھوں بندھی ہیں ہاتھوں میں میرے بھی رسیاں
پہچان لوں گی میں تمہیں آواز مجھ کو دو
کرتا رہا ہے ذبح کی کوشش کہاں کہاں
آہستہ سے جواب دو ہے ساتھ اُس کی ماں
وہ بھی تمہاری طرح سے زخمی نہ ہو کہیں
زینب پکاری میر تکلمؔ بصد ملال
— Mir Takallum Mir\
