پہنچوں اگر میں روضۂ اَنور کے سامنے
جالی پکڑ کے عرض کروں حالِ دِل کبھی
ہر دَم یہ آرزو ہے مَدینے کے چاند سے
جنت کی آرزو ہے نہ خواہش ہے حور کی
ہے آرزوئے دِل کہ میں ہندوستاں کو چھوڑ
شاہِ مدینہ طیبہ میں مجھ کو بلا تو لیں
طیبہ بلا کے اپنا سگِ دَر بنائیے
یوں میری موت ہو تو حیاتِ اَبد ملے
نکلے جو جاں تو دیکھ کے گنبد حبیب کا
منگتا کی کیا شمار سلاطینِ رُوزگار
دونوں جہاں کو نعمت کونین بانٹنا
یوں اَنبیا میں شاہِ دوعالم ہیں جلوہ گر
خوشبوئے مشک زُلفِ مُعَنْبَر کے سامنے
گلزار و باغ و گل کی نہ خواہش رہے تجھے
کیوں روکتے ہو خلد سے مجھ کو ملائکہ
جاری ہے اَلْعَطَش کی صدا ہر زبان پر
دِکھلا رہے ہیں سوکھی زبانیں حضور کو
جو کوئی بھی کرے گا شفاعت وہ ان کے پاس
اِنکار کر نہ فضلِ نبی سے تو اے شقی
ہے قادری جمیلؔ کی یہ عرضِ آخری
— Jamil Ur Rehman Qadri\
