قدموں میں بلا لیجۓ یا نبی مدینے میں
دوستو دعا کیجۓ مجھ کو پھر بلائیں وہ
اب میری نگاہوں میں ہر طرف مدینہ ہے
تاجدار پھرتے ہیں بھیس میں فقیروں کے
بھیجۓ درود اُن پر سلام اُن پر
اس قدر بٹتا ہے نور سبز گنبد پر
سامنے جو آتی ہے مسکرا کے آتی ہے
سر جھکاہو کعبےکو دل ہو اُن کے قدموں میں
ناصرؔ اُن نگاہوں میں آپ کی پناہوں میں
— Unknown
