قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی
لاج رکھ لی طمعِ عفو کے سودائی کی
فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضِر
شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال
پانچ سو سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گام
چاند اشارے کا ہلا حکم کا باندھا سورج
تنگ ٹھہری ہے رضاؔ جس کے لئے وُسعتِ عرش
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
