قربان میں ان کی بخشش کے مقصد بھی زباں پرآیا نہیں
ایمان ملا ان کےصدقےقرآن ملا ان کے صدقے
ان کا تو شعار کریمی ہے مائل بہ کرم ہی رہتے ہیں
جو دشمن جاں تھےان کوبھی دی تم نےاماں اپنوں کی طرح
وہ رحمت کیسی رحمت ہے مفہوم سمجھ لو رحمت کا
مونس ہیں وہی معزوروں کےغمخوارہیں سب مجبوروں کے
آواز کرم دیتا ہی رہا تھک ہار گۓ لینے والے
رحمت کا بھرم بھی تم سےہےشفقت کابھرم بھی تم سےہے
خورشید قیامت کی تابش ماناکہ قیامت ہی ہوگی
اس محسن اعظم کےیوں توخالدپہ ہزاروں احساں ہیں
— Khalid Mehmood Khalid\
