شہد رکھّے زباں پر سلاماشک انکی طرف چل پڑے
اس حسیں کہکشاں پر سلاماپنی آنکھوں سے لکھ آیا ہوں
آپؐ کے آستاں پر سلامبھیجتی ہے سماعت مری
اُس سراپا اذاں پر سلامدشمن جاں کو بھی امن دے
پیشوائے اماں پر سلامجگمگائیں نشانِ قدم
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
