رحمت کا در کھلا ہے محمد ﷺ کے شہر میں
جو دل رہے اُداس مدینے کی یاد میں
لفظوں میں کیا بتاؤں میں تم کو اے دوستو
اُس کے لبوں پہ چرچےتھے رب کی حبیب کے
آقا کے نغمے پڑھتا ہے وہ جھوم جھوم کر
سینہ مرا یہ نور سے ثاقبؔ ہے بھر گیا
— Unknown
رحمت کا در کھلا ہے محمد ﷺ کے شہر میں
جو دل رہے اُداس مدینے کی یاد میں
لفظوں میں کیا بتاؤں میں تم کو اے دوستو
اُس کے لبوں پہ چرچےتھے رب کی حبیب کے
آقا کے نغمے پڑھتا ہے وہ جھوم جھوم کر
سینہ مرا یہ نور سے ثاقبؔ ہے بھر گیا
— Unknown