روۓ بدرالدجیٰ دیکھتے رہ گۓ
حسنِ خیر الوریٰ میں خدا کی قسم
ہم گنہگار پہنچے درِ پاک پر
در پہ بلوا کے داتا نے جھولی بھری
کوۓ طیبہ میں حیرت سے اہلِ سخا
وہ ہوا لطف پیہم کہ صلِ علیٰ
چاند دو ٹکڑےہو کر تصدق ہوا
جالیوں کے قریں بیٹھ کر وجد میں
رک کے سدرہ کی منزل پہ روح الامیں
جو سکندر ہوا اُن کے دربار سے
— Unknown
