رُسل اُنہیں کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں
فرشتے آج جو دُھومیں مچانے آئے ہیں
فلک کے حور و مَلک گیت گانے آئے ہیں
یہ سیدھا راستہ حق کا بتانے آئے ہیں
یہ بھولے بچھڑوں کو رَستے پہ لانے آئے ہیں
خدائے پاک کے جلوے دِکھانے آئے ہیں
یہ قید و بندِ اَلم سے چھڑانے آئے ہیں
چمک سے اپنی جہاں جگمگانے آئے ہیں
نسیم فیض سے غنچے کھلانے آئے ہیں
یہی تو سوتے ہوؤں کو جگانے آئے ہیں
یہ کفر و شرک کی نیویں ہلانے آئے ہیں
ہزار سال کی روشن شدہ بجھی آتش
سحر کو نور جو چمکا تو شام تک چمکا
انہیں خدا نے کیا اپنے مُلک کا مالک
جو چاہیں گے جسے چاہیں گے یہ اسے دیں گے
جو گررہے تھے انہیں نائبوںنے تھام لیا
مسیح پاک نے اَجسامِ مردہ زندہ کیے
بلاوا آپ کا اب تک دیا کئے نائب
رؤف ایسے ہیں اور یہ رحیم ہیں اتنے
سنو گے لا نہ زبانِ کریم سے نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
