سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے
قدم بن جائے میرا سر مدینہ آنے والا ہے
الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاک طیبہ میں
مدینہ کو چلا میں بے نیازِ رہبر منزل
مجھے کھینچے لئے جاتا ہے شوقِ کوچۂ جاناں
وہ چمکا گنبد خضریٰ وہ شہر پر ضیاء آیا
جہاں سے بے خبر ہو کر چلو خلد مدینہ میں
ذرا اے مرکب عمر رواں چل برق کی صورت
مدینہ آگیا اب دیر کیا ہے صرف اتنی سی
فلک شاید زمیں پر رہ گیا خاکِ گزر بن کر
محمد کے گدا کچھ فرش والے ہی نہیں دیکھو
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
