جہاں بھی ہو وہیں سے دو صدا سرکار سنتے ہیں
میرا ہر سانس ان کی آہٹوں کے ساتھ چلتا ہے
گنہگارو درودِ والہانہ بھیج کر دیکھو
کھڑے رہتے ہے اہلِ تخت بھی دہلیز پہ انکی
میں صدقے جاؤں ان کی رحمت اللعالمینی کے
وہ یوں ملتے ہے جیسے زندگی میں کوئی ملتا ہے
مظفر جب کسی محفل میں ان کی نعت پڑھتے ہیں
— Unknown
