Sehar Chamki Jamal e Fasal (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

قریبِ طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا

ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیں

اَرے او سونے والے دِل ا رےاو سونے والے دِل

سہانی طرز کی طلعت نرالے رنگ کی نکہت

تَعَالَی اللہ یہ شادابی یہ رنگینی تَعَالَی اللہ

ہوائیں آرہی ہیں کوچۂ پرنورِ جاناں کی

منور چشم زائر ہے جمالِ عرشِ اَعظم سے

یہ رفعت دَرگہِ عرش آستاں کے قرب سے پائی

محرم کی نویں تاریخ بارہ منزلیں کرکے

نہ پوچھو ہم کہاں پہنچے اور ان آنکھوں نے کیا دیکھا

ہزاروں بے نواؤں کے ہیں جمگھٹ آستانہ پر

لکھا ہے خامۂ رحمت نے دَر پر خطِّ قدرت سے

خدا ہے اس کا مالک یہ خدائی بھر کا مالک ہے

زمانہ اس کے قابو میں زمانے والے قابو میں

عطا کے ساتھ ہے مختار رحمت کے خزانوں کا

کرم کے جوش ہیں بذل و نعم کے دور دَورے ہیں

کوئی لپٹا ہے فرطِ شوق میں روضہ کی جالی سے

کوئی مشغولِ عرضِ حال ہے یوں شادماں ہو کر

کمینہ بندۂ دَر عرض کرتا ہے حضوری میں

تری رحمت کے صدقے یہ تری رحمت کا صدقہ تھا

ذلیلوں کی تو کیا گنتی سلاطین زمانہ کو

تری دولت تری ثروَت تری شوکت جلالت کا

مطاف و کعبہ کا عالم دکھایا تو نے طیبہ میں

تجلی پر تری صدقے ہے مہر و ماہ کی تابش

غم و افسوس کا دافع اِشارہ پیاری آنکھوں کا

جو سب اچھوں میں ہے اچھا جو ہر بہتر سے ہے بہتر

رکھوں میں حاضری کی شرم ان اَعمال پر کیونکر

اگر شانِ کرم کو لاج ہو میرے بلانے کی

مجھے کیا ہو گیا ہے کیوں میں ایسی باتیں کرتا ہوں

بلا کر اپنے کتے کو نہ دیں چمکار کر ٹکڑا

تذبذب مغفرت میں کیوں رہے اس دَر کے زائر کو

مبارک ہو حسنؔ سب آرزوئیں ہو گئیں پوری

— Hassan Raza Khan Barelvi\