سنتے ہیں کہ محشرمیں صرف اُن کی رسائی ہے
مچلا ہے کہ رحمت نے امید بندھائی ہے
سب نے صفِ محشر میں للکار دیا ہم کو
یوں تو سب انہیں کاہے پر دل کی اگرپوچھو
زائر گۓ بھی کب کے دن ڈھلنےپہ ہے پیارے
بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا
مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو
اب آپ سنبھالیں توسب کام سنبھل جائیں
اے عاشق تیرے صدقے جلنے سے چھٹے سستے
اے دل یہ سلگنا کیا جلنا ہے توجل بھی اٹھ
مطلع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضا اللہ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
