تیری رحمتوں کادریا سر عام چل رہا ہے
میرے دل کی دھڑکنوں میں ہے شریک نام تیرا
یہ چاند اور ستارےیہ سلسلے جہاں کے
تیری مستی نظر سے ہے بہار میکدے کی
یہ کرم ہے خاص تیرا کہ سفینہ زندگی کا
میلاد ہم کریں گے چاہےساری دنیا روکے
سرِ عرش نام تیرا سرِ حشر بات تیری
مرے دامن گدائی میں ہے بھیک مصطفیٰ کی
— Qasim Jahangiri\
