لباس میں بشریّت کے تھا بشر تو نہ تھاہر اِک صدی کی زباں پر مکالمہ تیرا
کرے گا حشر تک اِنساں مطالعہ تیرا
کِتابِ نُور تھا ، دیباچہء سحر تو نہ تھاتِرے غبارِ قدم سے بھی آفتاب بنے
تِرے اصول زمانوں کے اِنقلاب بنے
تو عہد ساز بھی تھا صرف راہبر تو نہ تھارِوائے مشرق و مغرب نہیں قبا تیری
سُنی ہے اور بھی دُنیاؤں نے صدا تیری
تِرا وجود فقط اِس زمین پر تو نہ تھاجسارت ایسی تو رُوح الامین نے بھی نہ کی
وہاں تو آج کی سائنس بھی پہنچ نہ سکی
تِرا سفر کِسی سیّارے کا سفر تو نہ تھاغموں کی دُھوپ میں دیکھا ہے مَیں نے چل پھر کے
مثالِ ابر ہے ہمراہ ہر مسافر کے
جو ساتھ چھوڑدے وُہ سایہء شجر تو نہ تھایہ اپنی شان کے شایاں کرم کِیا تُو نے
خُدا سے وعدہء بخشش بھی لے لیا تُونے
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
