نگاہ جائے نہ تم سے آگے
ہیں ختم ساری حدود تم پر
سلام تم پر درود تم پرتمھارا جلوہ خمیر آدم
تم آسمان و زمین کے سنگم
تمھاری آمد
کمال ایزد
تمھارے اندر تمام عالم
تمھاری مننون ہر گھڑی ہے
ابد کو گھیرے ہوئے کھڑی ہے
عمارت ہست و بود تم پر
سلام تم پر درود تم پرخدا کے اطہار کی زباں تم
ہمارے اور اُس کے درمیاں تم
خدا کو پیاری
ادا تمھاری
جہاں جہاں وہ وہاں وہاں تم
ہر ایک تخلیق کی بنا ہو
تم اُس حقیقت کا آئنہ ہو
کھلا درِ ہر شہود تم پر
سلام تم پر درود تم پررسول سارے اِمام سارے
تمھارے در کے غلام سارے
تمھاری ہستی
ہے سب کی بستی
تمھارے سائل نظام سارے
ہیں جس کے قبضے میں سب خزانے
کیا اُسی خالق عُلا نے
ہر ایک شے کا درود تم پر
سلام تم پر درود تم پرچلی تھیں دل سے ببول لے کر
دعائیں لوٹی ہیں پھول لے کر
میں حشر تک کا
رئیس ٹہرا
خدا سے حب رسول لے کر
خطاؤں کو رحمتیں نوازیں
نثار تم پر مِری نمازیں
فدا قیام و سجود تم پر
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
