تمہیں جس نے بھی دیکھا کہہ اٹھا احمد رضا تم ہو
نہیں حامد رضا ہم میں مگر وجہِ شکیبائی
تمہارے نام میں یوں ہیں رضا و مصطفی دو جز
حیات و موت وابستہ تمہارے دم سے ہیں دونوں
یہ نوری چہرہ یہ نوری ادائیں سب یہ کہتے ہیں
رضا جویانِ رب تھامے ہوئے ہیں اس لئے دامن
جناب مفتیٔ اعظم کے فیضانِ تجلی سے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
