اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھِلا دیۓ ہیں
جب آگئ ہیں جوش رحمت پہ اُن کی آنکھیں
اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا
ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
ہم سے فقیر اب تو پھیری کو اٹھتے ہوں گے
آنے دو یا ڈبو دواب تو تمہاری جانب
اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہو گا
میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا
ملک سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلم
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
