انؐ کے قدموں سے لپٹ جاؤں قضا سے پہلے
کیف میں ڈوبی رہے شہرِ تغزّل کی فضا
لفظ جتنےہوں غلامی کا عمامہ باندھیں
چوم لوں حضرتِ حسان کے آثارِ قلم
تنگ دامانی کا احساس ہے اب تک کتنا شدید
انؐ کی تعظیم مقدم ہے سخن دانی پر
انؐ کے انوار سےروشن ہےخلا کا سینہ
موسم عشق کےآداب وفا بھی سیکھو
مسخ ہوتی ہوئی اقدار کےپس منظرمیں
اہل طائف کی شقاوت، وہ پیمبرؐ کی دعا
پتنہ وشرسےمکدرسےفضا گھرکی حضورؐ
خشک ہےکب سے مرے خطۃ دل کی مٹی
مسند عدل پہ فائز ہے ہوس میرے حضورؐ
سربرہنہ ہے ابھی میری زمیں کی ممتا
کبر و نخوت کےکبھی پیڑوں کاٹوٹےجادو
حاضری اس در اقدس کی بھی لازم ہےریاضؔ
— Riaz Hussain Chaudhary\
