وفورِ عشق سے سینوں میں اضطراب رہے
زمانہ سارا پھرا دربدر مگر وہ لوگ
ہمارے دل کو میسر رہی کلیدِ درود
یہی جزاۓ سخن ہے یہی ہے حرفِ دعا
یہی دعا ہے کہ سینہ رہے معطر یوں
وہ اسم پاک پڑھوں اور کیسے ممکن رہے
— Sajjad Baloch\
وفورِ عشق سے سینوں میں اضطراب رہے
زمانہ سارا پھرا دربدر مگر وہ لوگ
ہمارے دل کو میسر رہی کلیدِ درود
یہی جزاۓ سخن ہے یہی ہے حرفِ دعا
یہی دعا ہے کہ سینہ رہے معطر یوں
وہ اسم پاک پڑھوں اور کیسے ممکن رہے
— Sajjad Baloch\