وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت
گلوں کی خوشبو مہک رہی ہے دلوں کی کلیاں چٹک رہی ہیں
یہ مجھ کو کہتی ہے دل کی دھڑکن کہ دست ساقی سے جام لے لو
نہ جانے کتنے فریب کھائے ہیں راہِ الفت میں ہم نے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت
گلوں کی خوشبو مہک رہی ہے دلوں کی کلیاں چٹک رہی ہیں
یہ مجھ کو کہتی ہے دل کی دھڑکن کہ دست ساقی سے جام لے لو
نہ جانے کتنے فریب کھائے ہیں راہِ الفت میں ہم نے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\