اللہ کی رضا ہے محبت حسینؑ کی
جب کربلا میں آئے دُلارے بتول کے
اک زخم دل پہ اور بھی گھیرا لگا دیا
زینب نے جب نگاہوں سے دیکھا یہ ماجرا
مانا کہ یہ تمہاری بہن کے قرار ہیں
زینبؑ کی بات سُن کے شہہِ دین رو دیے
زینبؑ تمہارے لعل لہو میں نہائیں گے
یا حسینؑ ابنِ علیؑ ، یا حسینؑ ابنِ علیؑ
اسغر علی بھی راہ باغِ ارم ہوئے
زہرہؑ کا صبرچھِن گیا حیدرؑ کا گھر لٹا
اِک درد سے امام کا چہرہ اداس ہے
شیرِ خدا کے شیر کی حالت عجیب ہے
بیمار نونہال کو بستر پہ چھوڑ کر
جی جاں ہی عزیز نہ راحت عزیز تھی
دریا بہا جو فوج کہ پیاسے کو دیکھ کر
اُس خون کو فرشتوں نے دامن میں لے لیا
زخموں سے چُور ہو گئے جو مرتضیٰ کے لعل
اس طرح پورا ہو گیا تقدیر کا لکھا
یا حسینؑ ابنِ علیؑ ، یا حسینؑ ابنِ علیؑ
— Unknown
