یانبی مجھ کو مدینے میں بُلانا باربار
ہیں ہوائیں مہکی مہکی تَو فَضائیں خوشگوار
کاش جب آؤں مدینے خوب طاری ہو جُنُوں
مال کی کثرت کا تخت و تاج کا طالِب نہیں
واسِطہ سِبْطَین کا میرا گناہوں کا مَرض
فکرِنَزعِ روح و قبر و حشر سے بچ جاتا گر
آہ چھایا ہے گناہوں کا اندھیرا چار سو
کاش یاوَہ گوئی بد اَخلاقی اور بے جا ہنسی
مثلِ بسمل میں تڑپتا ہی رہوں سرکار کاش!
دولتِ دنیا سے بے رغبت مجھے کر دیجئے
ہو مدینہ ہی مدینہ ہر گھڑی وِردِ زَباں
گنبدِ خضرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں مِرا
اے مِرے آقا عزیزوں نے جسے ٹھکرا دیا
عرصئہ محشر میں آقا لاج رکھنا آپ ہی
— Unknown
