یا اللہ یا اللہ اللہ
یا ربِ مصطفیٰ تو مجھے حج پہ بلا
حج کا سفر ہو پھر عطا یا ربِ مصطفیٰ
رخ سوۓ کعبہ ہاتھ میں زم زم کا جام ہو
روتی رہے جو ہر گھڑی عشقِ رسول میں
دے دے طوافِ خانۂ کعبہ کا پھر شرف
آنکھوں میں جلوہ شہ کا اور لب پہ نعت ہو
فردوس میں پڑوس دے اپنے حبیب کا
سب اہل خانہ ساتھ میں ہو کاش چل پڑے
مجھکو بقیعِ پاک میں مدفن نصیب ہو
تُو بھی حساب بخش دے اخترِ زر کو
— Unknown
