یاشہیدِ کربلا فریاد ہے
آہ! سِبطِ مصطَفٰے فریاد ہے
بیڑا اَمواجِ تَلاطُم میں پھنسا
اُس علی اکبر کا صدقہ جو کہ ہیں
ہے مری حاجت میں طیبہ میں مروں
مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنا
ساقیِ کوثر کاصدقہ ساقِیا
دشمنوں کی دشمنی سے تنگ ہوں
حاسِدوں کا بڑھ گیا حد سے حسد
تھر تھراتا ہے کلیجہ خوف سے
راستے ہی میں بھٹک کر رہ گیا
دے دیاسارے طبیبوں نے جواب
میں نکّما ہوں نکمّے کو نبھا
نفس و شیطاں کی پکڑ میں آ گیا
دے علی اصغر کا صدقہ سرورا
جانکنی میں سختیوں پر سختیاں
پار اُتار اے راکِبِ دوشِ نبی
بے وفا دنیا کی الفت دور ہو
بَہرِ زَینب بے حیائی کا حضور
یا حُسین اسلامی بہنوں کو بنا
ہر طرف سے ہے بلاؤں کا ہُجوم
صبر کا پیمانہ اب لبریز ہے
مفلس و ناچار و خستہ حال ہوں
چھا گئی دل پر خَزاں پیارے حُسین!
حُبِّ سادات اے خدا دے واسِطہ
آفتوں پر آفتیں ہیں المدد
دین کی خدمت کا جذبہ دیجئے
سنّتوں کی ہر طرف آئے بہار
چل گئی بادِ مخالف اَلغیاث
کاش! ہو جاؤں مدینے میں شہید
بخت کی ہیں جس قدر بھی گتھیاں
کربلا کی حاضِری ہو پھر نصیب
حال ہے بے حال شاہِ کربلا
— Unknown
