یہ التماس ہے یا رب! حضورؐ سے اپنے
ملا نہ اب بھی ہمیں حاضری کا پروانہ
ہمارے قلب میں فاران سے ہوئی روشن
شبِ سیاہ میں جب کچھ نظر نہیں آتا
ہم اس نگاہ کی دریا دلی سے ہیں سرشار
یہ ایک تیرہ و تاریک خاکداں تھا یہاں
مسافروں نے رہ مستیم چھوڑی کیوں
دکھاۓ نامۃ اعمال کیا بھلا اپنا
— Anwar Shaur\
