یہ ساری فضائیں کہتی ہیں
رحمت کی گھٹائیں کہتی ہیں
اُن کے عاشق غوث و قلندر
جو اُن کے درکا منگتا ہے
دل اُس کا یہ ہی کہتا ہے
کیوں نہ اُن کے گیت سنائیں
میلاد بھی اُن کا منائیں گے
دیوانے مل کر گائیں گے
اُن کے منگتے چاند اور تارے
جو محفل پاک سجاتا ہے
ہر دم وہ یہ ہی کہتا ہے
اُن کا رتبہ سب سے اچیرا
سب شاہ و گدا بھی کہتے ہیں
میرے احمد رضا بھی کہتے ہیں
اُن کی سارے جگ میں پکاریں
یہ جتنے سمندر چلتے ہیں
ثاقبؔ وہ یہ ہی کہتے ہیں
— Unknown
