زینت سجادہ و بزم قضا ملتا نہیں
وہ جو اپنے دور کا صدیق تھا ملتا نہیں
اب چراغِ دل جلا کر ہوسکے تو ڈھونڈیئے
عالم سوزدروں کس سے کہوں کس سے کہوں
عالموں کا معتبر وہ پیشوا ملتا نہیں
زاہدوں کا وہ مسلم مقتدا ملتا نہیں
فردِ افرادِ زماں وہ شیخ اشیاخِ جہاں
استقامت کا وہ کوہِ محکم و بالا تریں
چار یاروں کی ادائیں جس میں تھیں جلوہ نما
ایک شاخِ گل نہیں سارا چمن اندوہگیں
مفتیٔ اعظم کا ذرہ کیا بنا اخترؔ رضا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
