اللہ برائے غوثِ اعظم
دیدارِ خدا تجھے مبارک
وہ کون کریم صاحبِ جود
سوکھی ہوئی کھیتیاں ہری کر
اُمیدیں نصیب مشکلیں حل
کیا تیزیٔ مہر حشر سے خوف
وہ اَور ہیں جن کو کہئے محتاج
ہیں جانبِ نالۂ غریباں
کیوں ہم کو ستائے نارِ دوزخ
بیگانے بھی ہو گئے یگانے
آنکھوں میں ہے نور کی تجلی
جو دَم میں غنی کرے گدا کو
کیوں حشر کے دن ہو فاش پردہ
آئینۂ رُوئے خوبرویاں
اے دل نہ ڈر ان بلاؤں سے اب
اے غم جو ستائے اَب تو جانوں
تارِ نفسِ ملائکہ ہے
سب کھول دے عقدہائے مشکل
کیا اُن کی ثنا لکھوں حسنؔ میں
— Hassan Raza Khan Barelvi\
