کھلا میرے دِل کی کلی غوثِ اعظم
مرے چاند میں صدقے آجا اِدھر بھی
ترے رب نے مالک کیا تیرے جد کو
وہ ہے کون ایسا نہیں جس نے پایا
کہا جس نے یَا غَوْث اَغِثْنِیْتو دَم میں
نہیں کوئی بھی ایسا فریادی آقا
مری روزی مجھ کو عطا کردے آقا
نہ مانگوں میں تم سے تو پھر کس سے مانگوں
صدا گر یہاں میں نہ دُوں تو کہاں دُوں
جو قسمت ہو میری بری اچھی کردے
ترا مرتبہ اعلیٰ کیوں ہو نہ مولیٰ
قدم گردنِ اولیا پر ہے تیرا
جو ڈوبی تھی کشتی وہ دَم میں نکالی
ہمارا بھی بیڑا لگا دو کنارے
تباہی سے ناؤ ہماری بچادو
تجھے تیرے جد سے انہیں تیرے رب سے
مرا حال تجھ پر ہے ظاہر کہ پتلی
خدا ہی کے جلوے نظر آئے جب بھی
فدا تم پہ ہو جائے نوریؔٔ مضطر
— Mustafa Raza Khan Noori\
