ہوں جو یادِ رُخِ پرنور میں مرغانِ قفس
کس بلا میں ہیں گرفتار اَسیرانِ قفس
حیف در چشم زَدن صحبتِ یار آخر ُشد
رُوئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد
نوحہ گر کیوں نہ رہے مرغ خوش الحان چمن
پائیں صحرائے مدینہ تو گلستاں مل جائے
زخمِ دِل پھول بنے آہ کی چلتی ہے نسیم
قافلہ دیکھتے ہیں جب سوئے طیبہ جاتے
تھا چمن ہی ہمیں زِنداں کہ نہ تھا وہ گل تر
دشت طیبہ میں ہمیں شکل وطن یاد آئی
اب نہ آئیں گے اگر کھل گئی قسمت کی گرہ
ہند کو کون مدینہ سے پلٹنا چاہے
چہچہے کس گل خوبی کی ثنا میں ہیں حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
