جس کو چاہا میٹھے مدینے کا اس کو مہمان کیا
طالبِ دنیا نے تو طلب لندن ہے کیا جاپان کیا
جن کا ستارا چمکا ان کو طیبہ کا پیغام ملا
شکر ادا ہو کیونکر تیرا پیارے نبی کی اُمّت میں
شاہِ مدینہ دین کی دولت اپنی الفت بھی دی اور
دورِجہالت تھا ہر سو جب کفر کی ظلمت چھائی تھی
حق کی راہ میں پتھر کھائے خوں میں نہائے طائف میں
جان کے دشمن خون کے پیاسوں کو بھی شَہرِمکہ میں
رونا مصیبت کا مت رو تُو پیارے نبی کے دیوانے
پیارے مبلغ معمولی سی مشکل پر گھبراتا ہے
وہ دنیا کی رنگینی میں کھویا رہا برباد ہوا
شاہ کو یہ معراج کی شب کتنا اونچا اِعزاز ملا
آہ! مقدَّر عرصہ ہوا عطارؔ مدینے جا نہ سکا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
