حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو
رُکنِ شامی سے مِٹی وحشت شامِ غربت
آبِ زمزم تو پِیا خُوب بجھائیں پیاسیں
زیرِ میزاب مِلے خوب کرم کے چھینٹے
دُھوم دیکھی ہے درِ کعبہ پہ بیتابوں کی
مِثلِ پروانہ پِھرا کرتے تھے جس شمع کے گِرد
خُوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ
واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا
اوّلیں خانۂ حق کی تو ضِیائیں دیکھیں
زِینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناؤ
ایمنِ طُور کا تھا رُکنِ یمانی میں فروغ
مہرِ مادر کا مزہ دیتی ہے آغوشِ حطیم
عرضِ حاجت میں رہا کعبہ کفیل انجاح
دھو چکا ظلمتِ دل بوسۂ سنگِ اَسْوَد
کر چکی رفعتِ کعبَہ پہ نظر پَروازیں
بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت
جمعۂ مکہ تھا عید اہلِ عبادت کے لئے
ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں
خوب مسعٰے میں بامید صفا دوڑ لیے
رقصِ بِسمل کی بہاریں تو مِنٰی میں دیکھیں
غور سے سُن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صَدا
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
