دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے
ذِکر اُن کا چھیڑیے ہر بات میں
مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں
غیظ میں جل جائیں بے دِینوں کے دل
کیجیے چرچا اُنہیں کا صبح و شام
آپ درگاہِ خدا میں ہیں وَجیہ
حق تمہیں فرما چکا اپنا حبیب
اِذن کب کا مِل چکا اب تو حضور
ملحدوں کا شک نِکل جائے حضور
شِرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ حبیب
ظالمو! محبوب کا حق تھا یہی
وَالضُّحٰی ، حُجُرَات ، اَلَمْ نَشْرَح سے پھر
بیٹھتے اُٹھتے حضور پاک سے
یا رسول اللہ دُہائی آپ کی
غوثِ اعظم آپ سے فریاد ہے
یاخدا تجھ تک ہے سب کا مُنتہی
میرے آقا حضرتِ اچھے میاں
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
