اِذنِ طیبہ عطا کیجئے
پھر مدینے میں آجائیں ہم
لو مدینہ قریب آگیا
سبز گُنبد پر اے زائرو!
دے کے غم اپنا دنیا کے ہر
رات دن کاش! رویا کروں
اِک نظر ہی کی تو بات ہے
کوئی پَھیرا غریبوں کے گھر
زورِ طوفان ہے ناخدا
ماہِ مِیلاد پھر آگیا
چَھیڑنا ہو جو شیطان کو
ازپئے شاہِ کرب و بلا
اپنے قدموں میں مدفن عطا
قبر میں گُھپ اندھیرا ہے آپ
پیارے آقا خزانہ مجھے
حاسِدوں سے حسد کا مرض
سارے اَعدا کا خانہ خراب
دشمنوں سے نہ ہرگز ڈروں
میرے سارے محبّین کو
جس قَدَر میرے اَحباب ہیں
آہ! مجرم ہے مِیزان پر
پاس حُسنِ عمل ہے کہاں!
آہ! تاریکیِ پُل صِراط!
فردِ جُرم آہ! عائد ہوئی
لے کے دوزخ ملائک چلے
کھانہ جائے کہیں مجھ کو آگ
اب شَفاعت پئے اہلِ بیت
چار یاروں کا صدقہ شہا
اِذن، عطارؔ کو اب حُضُور
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
