پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث المدد
رنج و الم کثیر ہیں یا غوث المدد
ہم کیسے جی رہے ہیں یہ تم سے کیا کہیں
تیر نظر سے پھیر دو سارے الم کے تیر
تیرے ہی ہاتھ لاج ہے یا پیر دستگیر
اِدْفَعْ شَرَارَ الشَرْ یَا غَوْثَنَا الْاَبَرْ
کس دل سے ہو بیانِ بے داد ظالماں
اہلِ صفا نے پائی ہے تم سے رہِ صفا
صدقہ رسولِ پاک کا جھولی میں ڈال دو
دل کی سنائے اخترؔ دل کی زبان میں
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
