ہے تم سے عالم پرضیا ماہِ عجم مہرِ عرب
دونوں جہاں میں آپ ہی کے نور کی ہے روشنی
کب ہوتے یہ شام و سحر کب ہوتے یہ شمس و قمر
شام و سحر کے قلب میں شمس و قمر کی آنکھ میں
ہے رُوسیہ مجھ کو کیا آقا مرے اَعمال نے
خورشیدِ تاباں بھیک کو آیا تری سرکار سے
خورشید کے سر آ پ کے دَر کی گدائی سے رہا
کاسہ لیسی سے ترے دَربار کی مہتاب بھی
ہیں یہ زمین و آسماں منگتا اسی سرکار کے
یوں بھیک لیتا ہے دو وَقتہ آسماں اَنوار کی
اس جبہ سائی کے سبب شب کو اسی سرکار نے
اور صبح کو سرکار سے اس کو مِلا نوری صلہ
جب تم نہ تھے کچھ بھی نہ تھا جب تم ہوئے سب کچھ ہوا
اِک ظلمتِ عصیاں شہا اس پر اَندھیرا قبر کا
بَرتوشوَد اَز نورِ رب بارانِ نوری روز و شب
ہو مرشدوں پر نورِ جاں بارِش تمہارے نور کی
بے شک ہے عاصی کے لیے ناری صلہ لیکن شہا
— Unknown
