کعبہ کے بَدرالدُّجی تم پہ کروروں درود
شافعِ روزِ جزا تم پہ کروروں درود
جان و دلِ اَصفیا تم پہ کروروں درود
لائیں تو یہ دُوسرا دَوسَرا جس کو ملا
اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا
طورکوہ کلیم پہ جو شمع تھا چاند تھا ساعیر کوہ مسیح کا
دل کرو ٹھنڈا مِرا وہ کفِ پا چاند سا
ذات ہوئی اِنتِخاب وَصف ہوئے لاجواب
غایَت و عِلَّت سبب بہرِ جہاں تم ہو سب
تم سے جہاں کی حیات تم سے جہاں کا ثَبات
مَغزہو تم اورپُوست اورہیں باہرکے دوست
کیا ہیں جو بیحد ہیں لَوث تم تو ہو غَیْث اور غوث
تم ہو حفیظ و مُغِیث کیا ہے وہ دشمن خبیث
وہ شبِ معراج راج وہ صفِ محشر کا تاج
نُحْتَ فَلَاحَ الْفَلاحْ رُحْتَ فَرَاحَ الْمَرَاحْ
جان و جہانِ مسیح داد کہ دل ہے جَرِیح
اُف وہ رہِ سَنگلاخ آہ یہ پا شاخ شاخ
تم سے کھلا بابِ جُود تم سے ہے سب کا وُجُود
خستہ ہوں اور تم مَعاذ بستہ ہوں اور تم مَلاذ
گرچہ ہیں بے حد قصور تم ہو عَفُوّ و غَفور
مِہْرِ خدا نور نور دل ہے سِیَہ دن ہے دُور
تم ہو شہید و بَصیر اور میں گُنَہ پر دلیر
چھینٹ تمہاری سحر چھوٹ تمہاری قَمر
تم سے خدا کا ظُہور اُس سے تمہارا ظہور
بے ہنر و بے تمیز کس کو ہوئے ہیں عزیز
آس ہے کوئی نہ پاس ایک تمہاری ہے آس
طارمِ اعلیٰ کا عرش جس کَفِ پا کا ہے فرش
کہنے کو ہیں عام و خاص ایک تمہیں ہو خَلاص
تم ہو شِفائے مَرض خَلقِ خدا خود غَرض
آہ وہ راہِ صِراط بندوں کی کتنی بِساط
بے ادب و بد لِحاظ کر نہ سکا کچھ حِفاظ
لو تہِ دامن کہ شمع جھونکوں میں ہے روزِ جمع
سینہ کہ ہے داغ داغ کہہ دو کرے باغ باغ
گِیْسُو و قَد لام اَلف کر دو بلا مُنْصَرف
تم نے بَرَنگِ فلق جَیْبِ جہاں کر کے شَق
نَوبَتِ در ہیں فَلک خادمِ در ہیں مَلک
خلق تمہاری جَمِیل خُلق تمہارا جَلِیل
طَیْبہ کے ماہِ تمام جُملہ رُسُل کے امام
تم سے جہاں کا نظام تم پہ کروروں سلام
تم ہو جَواد و کریم تم ہو رَؤف و رَحیم
خَلق کے حاکم ہو تم رزق کے قاسم ہو تم
نافع و دافع ہو تم شافع و رافع ہو تم
شافی و نافی ہو تم کافی و وافی ہو تم
جائیں نہ جب تک غلام خُلد ہے سب پر حرام
مَظْہَرِ حق ہو تمہیں مُظْہِرِ حق ہو تمہیں
زوردِہِ نا رَساں تکیہ گہِ بے کَساں
برسے کرم کی بھرن پھولیں نِعَم کے چمن
اک طرف اَعدائے دیں ایک طرف حاسدیں
کیوں کہوں بیکس ہوں میں کیوں کہوں بے بس ہوں میں
گندے نکمّے کمین مہنگے ہوں کوڑی کے تین
باٹ نہ در کے کہیں گھاٹ نہ گھر کے کہیں
ایسوں کو نعمت کھلاؤ دودھ کے شربت پلاؤ
گرنے کو ہوں روک لو غُوطہ لگے ہاتھ دو
اپنے خطا واروں کو اپنے ہی دامن میں لو
کرکے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ
کر دو عَدُوّ کو تباہ حاسدوں کو رُو بَراہ
ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی
کام غضب کے کیے اس پہ ہے سر کار سے
آنکھ عطا کیجیے اس میں ضیا دیجیے
کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
