شجر حجر تمہیں جھک کر سلام کرتے ہیں
زمیں کو عرشِ معلیٰ ہے تیرا گنبدِ سبز
مسافروں کو ترا در ہے منزلِ آخر
جنہیں جہاں میں کہیں بھی اماں نہیں ملتی
نظر میں پھرتے ہیں تیرے دیار کے منظر
سکونِ دل کی انہیں سے امید ہے ناصر
— Nasir Kazmi\
شجر حجر تمہیں جھک کر سلام کرتے ہیں
زمیں کو عرشِ معلیٰ ہے تیرا گنبدِ سبز
مسافروں کو ترا در ہے منزلِ آخر
جنہیں جہاں میں کہیں بھی اماں نہیں ملتی
نظر میں پھرتے ہیں تیرے دیار کے منظر
سکونِ دل کی انہیں سے امید ہے ناصر
— Nasir Kazmi\