تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں
میکشو! آئو آئو مدینے چلیں
جی گئے وہ مدینے میں جو مرگئے
زندگی اب سر زندگی آگئی
شوقِ طیبہ نے جس دم سہارا دیا
طائر جاں مدینے کو جب اُڑ چلا
جانِ نو راہِ جاناں میں یوں مل گئی
راہِ طیبہ میں جب ناتواں رہ گئے
خاکِ طیبہ میں اپنی جگہ ہوگئی
بے تکلف شہِ دو جہاں چل دئیے
اگلے پچھلے سبھی خلد میں چل دئیے
ان کی شانِ کرم کی کشش دیکھنا
اخترؔؔ خستہ بھی خلد میں چل دیا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
