شہنشاہِ زمانہ باہزاراں کروفر آئے
الٰہی میرے مرنے کی مَدینے سے خبر آئے
وہ تنگ و تار گوشہ قصرِ جنت ہی نظر آئے
مجھے عمرِ اَبد حاصل ہو اور دنیا میں جنت ہو
چمک جائے مقدر یاوَری پر میری قسمت ہو
فرشتہ سے قضا کے راہِ طیبہ میں یہ کہہ دوں گا
لحد میں دیکھ کر تم کو یہ کہہ دوں گا فرشتوں سے
منوّر دِل کلیجہ شاد آبادی میسر ہو
حیاتِ باطنی حاصل ہو میری رُوحِ مُضْطَر کو
پہنچ جاؤ ں میں طیبہ کو زِیارت ان کی حاصل ہو
میں بے ہوشی کے عالم میں گریباں چاک کر ڈالوں
لکھا ہے خامۂ قدرت نے ان کے سبز گنبد پر
سگانِ دَر تمہارے گر بنالیں مجھ کو سگ اپنا
تمہارا نامِ نامی نقش ہے دل کے نگینے پر
جو ہو خورشیدِ محشر لاکھ روشن منفعل ہوگا
تمہارے دَر کے ذَرَّوں کی ضیا ہو جس کی آنکھوں میں
تمہارے نام سے روشن ہوئیں کونین کی آنکھیں
نہ دیکھا مثل تیرا کوئی صورت میں نہ سیرت میں
خداوندِ جہاں نے جب کیا رائج حکومت کو
تمہارے نام سے روشن ہیں اِکے بزمِ وَحدت کے
پڑھا خطبہ انہیں کے نام کا حور و مَلائک نے
مَدینے کی زِیارت سے نہ کر اِنکار اے جاہل
وہابی قادیانی نیچری سب رہ گئے تکتے
جمیلؔ قادری رضوی کو جب دیکھیں گے محشر میں
— Jamil Ur Rehman Qadri\
