غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ
دِل میں دے یارب وِلائے مصطفیٰ
تیرے پیارے کا میں دیوانہ بنوں
مصطفیٰ ہیں ساری خلقت کے لیے
ڈھونڈتے ہیں سب رضا اللہ کی
کیا نسیمِ خلد خوش آئے اسے
رِزق کیا ہر چیز کے قاسم ہیں وہ
رہ گئے سدرہ پہ جبریلِ امیں
دشتِ طیبہ میں بہارِ خلد ہے
منتظر ہیں جنتیں اُس کے لیے
میری اُمت میری اُمت بخش دے
روزِ محشر اُن کے بندوں کے لیے
حکم حق ہوگا کہ جائے سب سے قبل
پل سے گزریں ان کے بندے بے خطر
یوں پکارے گا مُنادی حشر میں
اپنی اُمت کو ُچھڑانے کے لیے
جاں کنی کے وقت اَزراہِ کرم
پوچھتے کیا ہو فرشتو قبر میں
قبر و محشر کا یہی ہے اِک جواب
مہرِ محشر مجھ پہ ہوجائے گا سرد
کیوں ڈرائے گی مجھے نارِ جحیم
دو قدم میں ہوگی طے راہِ صراط
زُہد و طاعت کچھ نہیں ہے میرے پاس
روزِ محشر دھوپ میں ہوں گے عدو
چاہتا ہوں دل سے احمد کی رضا
ہے تمنائے جمیلِؔ قادری
— Jamil Ur Rehman Qadri\
