محمد مصطفیٰ جب حشر میں تشریف لائیں گے
جو محشر میں پکاریں گے اَغِثْنِی یَارَسُوْلَ اللہ
رہا ہے وِرد جن کا یَارَسُوْلَ اللہ دنیا میں
اگرچہ خاطی و عاصی ہیں ہم لیکن یقیں یہ ہے
جہنم چیختا جب عرصۂ محشر میں آئے گا
گنہگاروں کی بخشش کا رہے گا اُن کے سر سہرا
محمد وِردِ لب دامانِ اَحمد دونوں ہاتھوں میں
گزر جائیں گے پل سے رَبِّ سَلِّمکی صدا سن کر
تمامی اَہلِ محشر اَنبیا کے پاس سے پھر کر
بِحَمْدِ اللہ بچا کر نار سے فردوسِ اَعلیٰ میں
شفاعت کرکے ہر امت کی دَرگاہِ الٰہی میں
گنہ اُمت کے اُڑ جائیں گے محشر میں ہوا ہو کر
مچل جائیں گے اُن کے دامنِ اَقدس پہ جب عاصی
بجا ہے جس قدر روئیں غمِ عشقِ محمد میں
جو ہوں گی حشر میں سوکھی زبانیں پیاس سے باہر
اَغِثْنِیْ َیارَسُوْلَ اللہ محشر میں مدد کیجیے
وہ جب آئیں گے محشر میں فَتَرْضٰی کی سند لے کر
جو جلتے ہیں یہاں سن کر صدائے َیارَسُوْلَ اللہ
جلائیں گے یہاں ہم منکروں کو یانبی کہہ کر
نہیں گو مال و زَر لیکن مَدینے میں پہنچ کر ہم
خدا چاہے تو پیشِ حق عدالت میں کھڑے ہو کر
— Jamil Ur Rehman Qadri\
