نظارہ ہو دربار کا غوثِ اعظم
مجھے جامِ الفت پِلاغوثِ اعظم
کرم کیجئے پھر میں بغداد آؤں
مجھے اپنی چَوکھٹ کا کُتّا بنا لو
ترے آستاں کا ہوں منگتا گزارہ
گناہوں کا بار اپنے سر پر اُٹھا کر
علاج آخِر اے مرشِدی کب کریں گے!
گنہگار ہوں گر عذابوں نے گھیرا
نظر مُرشِدی تیری جانب لگی ہے
جہاں میں جیوں سنّتوں کے مطابِق
ہو عطاؔر کی بے سبب بخشش آقا
— Unknown
